Husband, Wife & Susral | Heart Touching Urdu Short Story

بیوی کو میکے بھیجیں

میرے ایک بچپن کا دوست تھا ہمارا بچپن ایک ساتھ گزرا تھا
پہلے نہ سوشل میڈیا تھا نہ فیس بک نہ وٹس ایپ، تو ہم سارے اکھٹے بیٹھ کر رات گئے تک ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مزاق کیا کرتے تھے۔

اس دوست کی شادی ہونے کے بعد ہم ایک دوسرے سے کافی دور ہوگئے۔تو وہ دوست بھائیوں کے ساتھ ہمارے شہر کو بھی چھوڑ کر چلا گیا مگر اس کے سسرال کا گھر اسی شہر میں تھا۔تو وہ سسرال کے گھر ہمیشہ آتا جاتا رہتا تھا تو ہم دونوں اس دن اک دوسرے سے مل کر بہت زیادہ خوش ہوتے تھے۔

ایک دن وہ سسرال ہو کر میرے گھر آیا تو کہنے لگا یار آج دال چاول کھائے ہیں پر مزہ نہیں آیا۔ میں نے اس کو چھیڑتے ہوے کہا کہ بھائی یہ آپ ہر دوسرے دن باجی کو لے کر میکے آ جاتے ہیں کھانا کھانے، ، آپکو اب دال چاول ہی ملا کرینگے۔

اس نے سگریٹ کا لمبا کش کھینچا اور پھر کہنے لگے یار تمہیں ایک بات بتاوں ہماری ایک ہی بہن ہے۔ باپ کی اتنی لاڈلی تھی کہ باپ اسکو ساتھ بٹھائے بنا روٹی نہیں کھاتا تھا۔ اسکی شادی ہوئی تو اسکے سسرال والے بہت سخت تھے۔ مہینے دو مہینے بعد اسکو ماں باپ کے گھر آنے کی اجازت دیتے تھے۔ میں نے جیسے اپنے باپ کو تڑپتے اور آنسووں سے روتے دیکھا ہے میں بتا نہیں سکتا۔ وہ آخری دنوں میں بھی ہمارے ترلے کیا کرتا تھا کہ جاؤ اپنی بہن کو ہی لے آؤ ،کچھ گھنٹوں کو ہی۔ ہم بھائی جاتے تھے، کئی دیر بیٹھ کر کبھی اسکا شوہر اجازت دے دیتا تھا اور کبھی نہیں دیتا تھا اور ہم جب اکیلے واپس آتے تو باپ رومال منہ پہ رکھ کر ہچکیاں لے کر روتا تھا۔

میری بیوی نہیں کہتی، میں روز اس سے کہتا ہوں تم کو تمھاری امی سے ملوا لاؤں؟

دوستو گو زمانہ کافی بدل چکا ہے، شہروں کا کلچر تو کافی بدلا ہے۔ لیکن اگر آپ کسی کی بیٹی لے ہی آئے ہیں تو یاد رکھئیے کسی کے جگر کا ٹکڑا کاٹ کر لائے ہیں۔ آپکی “حاکمیت” یا “شوہریت” کی بنیاد بیوی کو اس کے میکے سے کاٹنے پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔

کوشش کیجئیے آپکی بیوی کو خود نا کہنا پڑے، اسے بار بار پوچھتے رہیے کہ اگر وہ اپنے ماں باپ کو مس کر رہی ہے تو آپ اسے اسکے گھر والوں سے ملا لائیں یا بھیج دیں۔ شادی میں باہمی محبت کا یہ پہلا زینہ ہے۔ اور پھر یاد رکھئیے کہ کل آپ کی بیٹی نے بھی تو سسرال جانا ہے، اور یہ تڑپ بہت ظالم ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *