Kishmir Day Speech Urdu

آج کی صدی میں اس بات کا پر چار عام ہے کہ ہم ایک آزادریاست کے باسی ہیں۔ ہر ایک کی زبان اسی بات کا ڈنکا کرتی سنائی دیتی ہے۔ لیکن کیا ایسا ہے؟ شاید آپ کا جواب ہاں میں ہو لیکن اگر میرے یہی الفاظ کسی کشمیری بہن یا بھائی سے ہو تو کیا اُس کا بھی جواب ہاں میں ہو گا ؟ یقینا نہیں پاکستان کو آزاد ہوئے آج 70 سال بیت گئے ہیں اور ہر پاکستانی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے بڑا فخر محسوس کرتا ہے لیکن آج بھی کشمیری عوام محمد بن قاسم جیسے لیڈر کا انتظار کر رہے ہیں کہ جو آئے اور ان کو آزاد میر غور لاتے ہوئے آج ہم اپنے الفاظوں کو یوم یکجہتی شمیر یعنی 5 فروری کے لیے قلمبند کیا ہے۔کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ مانا جاتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے جب 1947ء میں پاکستان حاصل کیا تو معاہدے کے مطابق کشمیر پاکستان کی سرحد میں طے پایا۔ لیکن ہندوستان کی سرکار اور عوام سے یہ بات قابل برداشت نہ ہوئی اور اُسی دن سے آج تک کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا جو کہ آج آزاد یعنی مقبوضہ کشمیر اور دوسر اجموں کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انسانیت کی بے حرمتی ، بے جا ظلم وستم قانونی حقائق کی خلاف ورزی اور زیادتیاں آج بھی انڈین آرمی کی طرف سے جموں کشمیر میں جاری وساری ہیں۔ آج بھی ہمارے کشمیری بھائی اور بہنیں غلامی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ لیکن آج اس ترقی اور امن کے دور میں بھی جب کوئی کشمیری مسلمان نا جائز نقطه اجل کا شکار ہے تو کیوں کوئی با اثر وثوق آواز نہیں اٹھائی جاتی ہوائے کشمیریوں کے پختہ ارادوں اور جذبوں کے ؟ کشمیر کی سرحد پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے جس سے بیٹثابت کر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام اپنے شمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ 1997ء میں قاضی حسین احمد نے 4.5 اپنی جماعت کے 4.5 ملین مہران کے ساتھ مل کر ملک گیر مہم کا آغاز کیا اور کشمیر کے خلاف بغاوت کرنے والے بھارت کے خلاف پر زوراس بات میں کوئی دورائے نہیں ے کہ کشمیری آزادی کےلیے کئی جنگیں لڑی گئیں مہم چلائی گئیں۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلہ کشمیر کولے کر کئی معاہدے بھی ملے پائے لیکن انڈیا کی چالا کی اور بے ایمانی ہمیشہ کشمیری مسلمانوں کے حقوق کو دباتی رہی ہے۔ کشمیری اپنی زندگی کو آزادی سے گزارنے میں بھی محتاج ہیں اور ہر وقت کسی مسیحا کے منتظر رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی ہے اور ہزاروں کشمیری مسلمان آزادی کی خاطر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کئی ماؤں کے بیٹے ، کئی بہنوں کے بھائی ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے لیے کشمیریوں نے اپنے خون کے نذرانے بھی بائیں کر دیے ہیں لیکن آج بھی کشمیریوں کی نظر کسی ایسے مسیحا ہیں کہ جو آئے اور ان کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر آزادی کی روشنیوں میں لے گئے۔لہذا آج ہمارا یہاں اکٹھا ہونے کا مقصد شمیر یعنی تجارتی کشمیر ہی ہے۔ حکومتی اداروں اور اعلیٰ افسروں سے اپیل ہے کہ کوئی پختہ اقدام کیا جائے اور عمیر کی آزادی کے لیے کوشش کی جائے۔ اس معاملے میں عام عوام کو بھی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ضرورت ہے، بتا کہ جب وہاں کشمیر میں کوئی مسلمان شہید ہو تو اس کے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بیا احساس ۔ رے ہمدر و مسلمان بھائی اور بہنیں ہیں جو ہمارے دُکھ اور درد میں برابر کے شریک ہیں۔ اور آخر میں، میں قائد اعظم محمدعلی جناح کی اس آواز کو آپ نے پیغام دیا کہ کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیر کی آزادی تک کشمیری اور پاکستانی عوام کا ایک ہی نعرہرہے گا کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی، جنگ رہے گی ۔

Check Also

Faisal name Rabi ul awal dp for whatsapp | rabi ul awal dp pics

Rabi-ul-Awal is one of the most significant months in the Islamic calendar, as it marks …

imran name Dp on Rabi ul Awal Free Download

Rabi ul Awal Rabi ul Awal is a month of great significance for Muslims all …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *